Archive for the طنزومزاح Category
ہیش ٹیگ شاعری
یہ مناسب رہے گا کہ مسئلے پر گفتگو سے پہلے ڈسکلیمر کا اندراج کردیا جائے کہ حضرت اقبال کی شاعری سے ہماری جذباتی انسیت محض اسی نوعیت کی ہے جو کسی بھی اردو شاعری کے پرستار کی ہونی چاہیے بلکہ ہم تو رحمتہ اللہ علیہ کا لاحقہ بھی سنت غیر موکدہ کی مانند ہمیشہ ہی […]
شکوہ شارپ پلس پلس (ایک ڈیمن تھریڈ کا شکوہ)۔
ابھی کنسٹرکٹر چلے عرصہ ہی کیا ہوا تھا کہ والد صاحب کا پوائنٹر نل ہوگیا۔ والدہ کا ویک ریفرنس اور بھائیوں کے ریموٹ پراسیجرز کے سہارے جیسے تیسے اِنٹ مکمل کیا۔ کیا کیا ارمان تھے کہ ہم بھی کنٹرولر بنیں گے، ہمارا بھی ایک مین ویو اور ڈیٹا سورس ہوگی لیکن کرنل کے تو کھیل […]
پگلے ۔ 23 مارچ کی خصوصی تحریر
اگلے دنوں جب مالیاتی ادارے اور عالمی معیشتیں اپنی سرمایہ داری کے ہاتھوں گھائل اشتراکی “بیل آؤٹ” کی دہائی دینے میں مصروف تھے تو آپ نے کریڈٹ ڈیفالٹ سواپ کا ذکر کثیر ضرور سنا ہوگا۔ 23 مارچ کو جب مملکت خداد کے ریاستی مالکوں اور سماجی ٹھیکیداروں کی اٹھکیلیاں دیکھتا ہوں تو شارع دیوار کے دلالوں کی […]
قلندر کدھر جائے؟
غلامی اگر مکروہ قرار نا دی جاتی تو نواب صاحب کے صف شکن ماموں ہی قرار پاتے؛ وہی صوم و صلاۃ کی پابندی، منطق میں طاق، فلسفہ میں طاق الا طاق اور پھر بٹیر سی طبعیت۔ فرق صرف یہ کہ مولوی صاحب بھی معقول کرنے سے معذور۔ لیکن یہ سب مصاحبوں کے قصیدے نہیں بلکہ […]
بنام دیسی لبرل
محترم دیسی لبرل، خالی صفات و سرکش دہر، آداب نامہ دار کی حاضری ہوئی اور وصول پایا آپ کا رقعہ؛ رقعہ کہیے کہ حال دل، سچ پوچھیے تو دل سے شعلہ آہ نکلا؛ اسی سبب دن برباد اور طبعیت مضمحل پاتا ہوں، سوچتا ہوں خدمت باطل میں کچھ حق نذر کروں کہ مشیران اُبہت حق […]
انقلابازیاں
سچ پوچھیے تو ہم بھی انقلابوں کے متاثرین میں شامل ہوئے جاتے ہیں؛ قصور ہمارا نا جانیے کہ ہم نے اپنی سی کردیکھی مگر کیا کیجیے کہ میلاد سے لے کر آج یہ سن آپہنچا مگر قبلہ انقلاب کو نا آنا تھا نا آن کے دیے۔ پہلے پہل تو بڑے رنگین قسم کے انقلابوں کا […]
ٹھیکیدار کا مسئلہ
دیکھیے یہ جنسی برابری، زبان، رنگ، مذہب اور نسل کی ثانوی حیثیت؛ کردار و تقوی سے انسان کی پہچان بڑی رومانوی باتیں ہیں لیکن ہم ٹہرے ان اصولوں کے ٹھیکیدار اور بطور ٹھیکیدار ہمارا کام ان اصولوں پر عمل کرنا نہیں بلکہ آپ کی زندگی میں ان کا اطلاق یقینی بنانا ہے۔ مقدس دائرے میں […]
چراغ نما
جزیرہ نما کو ہی لیجیے؛ کہتے ہیں تین اطراف پانی اور ایک طرف خشکی تو بدنصیب زمین جزیرہ نہیں رہتی بلکہ جزیرہ نما ہوجاتی ہے۔ بات اتنی سادہ اور آسانی سے سمجھ آنے والی ہے کہ ہمارے ایسے کوڑھ مغز کے لیے گویا لغوی نمونہ ۔ اب کوئی قطب نما کہے تو قطب چاہے ارضیاتی […]
یوسفی صاحب
اردو مزاح کو ایک لمحے کے لیے عیسائیت کا فرقہ مان لیں تو یوسفی صاحب کے مجموعے کی حیثیت بالکل ایسی معلوم ہوگی جیسے رائج انجیل؛ اب کسی “سان یوسفی مشنری اسکول” کی موجودگی سے یہ نتیجہ اخذ نا کربیٹھیے گا کہ بعینہ یہی صورتحال ہے جبکہ راقم محض تمثیل پر اکتفا کرنے پر بضد […]
جعفرانّا
جعفر اناّ، آداب تمہید و الخابات میں وخت ضائع کرنے کے بجائے ہم براہ راست مطلب کی بات کرنا چاہتے ہیں، آپ کے خطاں ہم تک پہنچتے رہے ہیں اور ہم آپ کی خلبی کیفیات سے بھی پوری طرح واخف ہیںلیکن معاملے میں ہمارا خصور کتنا ہے یہ لوگاں ابھی سمجھنے کو تیار نہیں۔ آپ […]
چاند کی پریاں
سائنس سے ہمارے تعلقات میں دراڑیں تو اسی دن پڑ گئیں تھیں جب سائنس نے اس بات پر گمراہ کن اصرار کرنا شروع کردیا تھا کہ چاند پر پریاں تو کیا “میری پوسا” کی کوئی بھولی بھٹکی نسل تک دستیاب نہیں۔ آپ خود غور فرمائیں کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ دادی کے اسی سالہ […]